عدیل فاروق

منتظمِ کتب خانہ

کسی بھی قسم کی آن لائن معلومات کی تلاش کیلئے ہمیں سرچ انجن کی ضرورت پیش آتی ہے۔ سرچ انجن مطلوبہ مواد کی تلاش میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ سرچ انجن میں تلاش کے دوران الفاظ کے درست استعمال سے ہم بآسانی مطلوبہ معلومات تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
ایک اچھے سرچ انجن کو چاہیئے کہ صارف کے سوال سے متعلقہ نتائج ڈھونڈ کر پیش کرے، ایک اچھے سرچ انجن کو سادہ اور استعمال میں آسان ہونا چاہیئے۔ سرچ انجن میں یہ قابلیت ناگزیر ہے کہ وہ پوچھے گئے سوالات یا مطلوبہ معلومات سے متعلقہ ڈیٹا بیسز میں سے ہی جوابات یا نتائج تلاش کرکے پیش کرے۔
برسوں سے گوگل لوگوں کے درمیان بہترین سرچ انجن کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔ گوگل کے بعد ددسرے نمبر پر بِنگ جبکہ تیسرا نمبر ایم-ایس-این کا ہے۔ تاہم کوئی بھی عالمی سرچ انجن نہیں ہے جو کہ ہر طرح کی معلومات ڈھونڈ سکے۔ انٹرنیٹ پر معلومات کی بہترین تلاش کیلئے ضروری ہے کہ نہ صرف ایک سرچ انجن پر انحصار کیا جائے بلکہ باقی موجودہ سرچ انجنوں سے بھی استفادہ کیا جائے۔ 
معلومات کی تلاش کے دوران غیر ضروری صفحات، معلومات اور اشتہارات سے نجات پانے کے ساتھ ساتھ صرف متعلقہ معلومات کے حصول کیلئے ہمیں اپنی تحریر کو مختصر مگر جامع شکل میں لکھنا مطلوب ہوتا ہے۔
عام طور پر سرچ انجن دو طرح کے ہوتے ہیں۔
 عام سرچ انجن
 خاص سرچ انجن
عام سرچ انجنوں کا ذکر اوپر کیا جاچکا ہے۔ اور ان میں چیدہ چیدہ سرچ انجنوں کے ناموں کا بھی اندراج کر دیا گیا ہے۔ جبکہ خاص سرچ انجن صرف خاص موضوع سے متعلق معلومات تلاش کرنے کیلئے ہی استعمال کئے جاتے ہیں۔
جن میں اہم نام ذیل میں درج ہیں۔
(گوگل سکالر   (تحقیقی مقالات کی تلاش کیلئے
(ویبو پیڈیا       (ٹیکنالوجی اور آئی -ٹی کی معلومات کیلئے
( پب میڈ          (طب کے میدان میں کی جانے والی تحقیق کی تلاش کیلئے
( بریٹینیکا        (انسائیکلوپیڈیا بریٹینیکا میں سے معلومات کے حصول کیلئے
ہمیں معلومات کے حصول کیلئے ایک یا ایک سے زیادہ خاص سرچ انجنوں کا کرنا پڑ سکتا ہے۔

"ریڈیو فریکوینسی آئیڈینٹی فیکیشن - ایک تعارف" کے نام سے لکھا گیا میرا تیسرا مضمون صدائے لائبریرین کے صفحات کی زینت بنا۔





لائبریری سائنس کے معروف پاکستانی جریدے صدائے لائبریرین میں چھپنے والا میرا دوسرا مضمون، بعنوان "آسا ڈان ڈکنسن"!






لائبریری سائنس کے معروف پاکستانی جریدے صدائے لائبریرین میں حقوقِ نشر و اشاعت پر چھپنے والا میرا پہلا مضمون، بعنوان "حقِ نشر و اشاعت کی تاریخ"!